منڈیا / میسور، 4 اکتوبر(ایس اونیوز) کرناٹک اسمبلی کے فیصلے کے تحت کاویری طاس کے آرایس اور کبنی ڈیم سے تمل ناڈو کے لئے کل رات 6800 کیوسک پانی چھوڑا گیا۔سرکاری ذرائع نے تمل ناڈو کے کسانوں کے لئے آبپاشی کے کاموں کے سلسلے میں پانی چھوڑے جانے کی تصدیق کی ہے ۔ کرناٹک حکومت نے یہ قدم سپریم کورٹ کی پانی چھوڑنے کی وارننگ کے بعد اٹھایا ہے ۔ سپریم کورٹ نے چھ اکتوبر تک روزانہ چھ ہزار کیوسک پانی چھوڑے جانے کی ہدایت دی تھی۔میسور سے موصولہ رپورٹ کے مطابق کبینی ڈیم سے 3500 کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے ۔دریں اثنا کسان لیڈر ننجنڈے گوڑا کی قیادت میں کسانوں نے تمل ناڈو کے لئے پانی چھوڑے جانے سے متعلق ریاستی حکومت کے فیصلے کی مخالفت میں کرشنا راجا ساگر ڈیم کے سامنے دھرنا دیا۔ انہوں نے فصلوں کو ہونے والے نقصان کے سلسلے میں کسانوں کو 50 ہزار روپے کا معاوضہ دئے جانے کا مطالبہ کیا۔